بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کے حالیہ میزائل اور ڈرون آپریشنز کے بعد سب سے اہم سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ اہداف کے تعین کی بنیاد کس اصول پر رکھی گئی ہے؟
دستاویزات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران کی آپریشن کمانڈ نے "حملے کے اوزاروں" کے بجائے "حملے کے مبدأ (source a or origine)" اور کمانڈ، ہدایت کاری اور سپورٹ کے مراکز کو ترجیح دی ہے۔ یہ وہ نقطہ نظر ہے جسے فوجی اصطلاح میں "آپریشنل مراکزِ ثقل" (Operational Centers of Gravity) پر حملہ کہا جاتا ہے۔
جدید جنگ میں، ایک ڈرون یا جنگی طیارے کو تباہ کرنے کی آپریشنل قدر محدود ہوتی ہے، لیکن ایک بیس، کمانڈ سینٹر، کنٹرول یا انفراسٹرکچر کو ناکارہ بنانا ـ جو مشن کو تخلیق کرتا اور ہدایت دیتا ہے، اس کا آپریشنل اثر بہت وسیع تر ہوتا ہے۔ اسی لئے، حملے کے مبدأ اور کمانڈ اور سپورٹ مراکز کو نشانہ بنانا انفرادی آلات سے لڑ پڑنے کے مقابلے میں زیادہ کارآمد ہے۔
مثال کے طور پر، بندرعباس پر حملے میں، انٹیلیجنس جائزوں نے اشارہ دیا کہ حملہ آور بغیر پائلٹ کا بحری جہاز بحرین کے محور سے آپریشن میں داخل ہوا تھا۔ لہذا، بحرین میں امریکی پانچویں بیڑے کے کنٹرول، راہنمائی اور سپورٹ مراکز، جو خطے کے فضائی و بحری مشنوں کا ایک حصہ منظم کرتے ہیں، کو خطرہ پیدا کرنے والے اہم مراکز میں سے ایک سمجھا گیا اور ایران کے حملوں میں اس مجموعے کے کمانڈ و کنٹرول مراکز کو پہنچنے والا نقصان بھی اسی سیاق و سباق میں قابل تبصرہ ہے۔
دوسری مثال کویت ہے، جو حالیہ برسوں میں MQ-9 Reaper ریپر ڈرونز کی اہم تنصیبات میں سے ایک بن گیا ہے۔ یہ ڈرونز نہ صرف جاسوسی مشنز بلکہ آمدورفت کی لائنوں اور آبنائے ہرمز کی نگرانی اور کنٹرول میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق، حالیہ جنگ بندی کے بعد تقریباً 20 ریپر ڈرون کویت میں تعینات کئے گئے، جن میں سے بعد میں کچھ کو امریکی فوج نے دوسرے مقامات پر منتقل کیا لیکن ایران نے انہیں دوبارہ نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ اس طرح کے اڈے محض ڈرونز کی تنصیب کی جگہ نہیں ہوتے، بلکہ خطے کے انٹیلیجنس، جاسوسی اور کمانڈ نیٹ ورک کا ایک حصہ شمار کئے جاتے ہیں۔
اردن جنگی طیاروں کی پرواز اور فضائی مشنز کی انجام دہی کے اہم مراکز میں سے ایک بن گیا ہے۔ اس ملک کا جغرافیائی مقام خطے میں فضائی آپریشنز کے لئے مناسب رسائی فراہم کرتا ہے اور اسی وجہ سے، فضائی مشنز سے متعلق انفراسٹرکچر کو بھی آپریشنل حسابات میں خصوصی حیثیت حاصل ہے۔
فضائی اڈوں کے ساتھ ساتھ، ریڈار اور ایئر-میزائل ڈیفنس نیٹ ورکس بھی ایران کی کاروائیوں میں، اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ کوئی بھی میزائل یا ڈرون آپریشن اپنے ہدف تک پہنچنے کے لئے ابتدائی انتباہی نیٹ ورک، کھوج اور ڈیٹرنس سسٹم، ایئر-میزائل ڈیفنس کمانڈ مراکز اور پروجیکٹائل روکنے والے نظامات کو عبور کرتا ہے۔ لہذا، اس نیٹ ورک کو کمزور کرنا بعد کی کاروائیوں کی کامیابی کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔
ایئر-میزائل ڈیفنس سسٹم ہر مسلح فورس کا انتہائی بیش بہا اور اسٹراٹیجک اثاثوں میں سے ہے۔ طویل فاصلے کے ریڈار، ابتدائی انتباہی نظام اور پرت دار تسدیدی (ڈیٹرنس) والے نظامات، نہ صرف پیداوار، سپلائی اور تنصیب کے لحاظ سے بہت مہنگے ہیں، بلکہ ان کی پیداوار، تربیت، انضمام اور تبدیلی کا چکر (اور عرصہ) بہت سے جنگی آلات کے مقابلے میں بہت طویل ہوتا ہے۔
اسی لئے، ریڈار یا فضائی دفاعی نیٹ ورک کو نقصان پہنچے تو یہ محض چند آلات کے ضائع ہونے کے مترادف نہیں، بلکہ یہ طویل عرصے تک کسی علاقے کی کھوج، تسدید اور دفاعی صلاحیت کو کم کر دیتا ہے۔ اسی وجہ سے، یہ نظام ہمیشہ اعلیٰ اسٹراٹیجک اہداف (High Value Targets) میں شمار کئے جاتے ہیں۔
مجموعی طور پر، حالیہ آپریشنز میں اہداف کے انتخاب کا نمونہ دشمن کے آلات کو تباہ کرنے کے بجائے خطرہ پیدا کرنے والے سورس، کمانڈ، ہدایت کاری، جاسوسی اور سپورٹ کے سلسلے کو ناکارہ بنانے پر مرکوز رہا ہے۔
دوسرے لفظوں میں، ان آپریشنز پر حاوی منطق "خطرے کے مبدأ (Source or origine)" کو تباہ کرنے کی منطق ہے؛ یہ نقطہ نظر نیٹ ورک پر مبنی جنگوں میں انفرادی آلات کو نشانہ بنانے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: علی رضائی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ